186

جنگ مسائل کا حل نہیں ،کوشش ہے ایران سعودی عرب میں غلط فہمی دور کی جائے،شاہ محمود قریشی

معاملات کو بات چیت سے حل کیا جائے،ہم نہیں چاہتے کہ خطہ میں مزید خون خرابہ ہو اور یہ خطہ کسی نئے جھگڑے کا شکار ہو جائے

ترکی نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور حال ہی میں مسئلہ کشمیر پر ترکی کی قیادت نے بڑھ چڑھ کر پاکستان کا ساتھ دیا

ہماری معلومات کے مطابق اب بھی اس نے کئی ممالک سے رابطے کئے ہیں کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلا جائے،

اسلام آباد(لاہور پوسٹ)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ ایران کامیاب رہا۔ وزیر اعظم کا دورہ ایران یک نکاتی تھا، ہم نہیں چاہتے کہ خطہ میں مزید خون خرابہ ہو اور یہ خطہ کسی نئے جھگڑے کا شکار ہو جائے، اس کے لئے ضروری ہے کہ اگر دو اسلامی ملکوں کے درمیان کوئی غلط فہمی ہے تو اس غلط فہمی کو دو ر کیا جائے اور معاملات کو سفارتی ذرائع کے ذریعے اور بات چیت سے حل کیا جائے،ہماری رائے میں جنگ مسائل کا حل نہیں،ایک ذاتی مفاد خطہ کو مزید الجھانا چاہے گا ۔ وزیر اعظم عمران خان اقدام اٹھایا کہ ہم امن کو ترجیح دیں اور اپنا کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر اور ایرانی سپریم لیڈر اور رہبر سے بہت اچھی گفتگو ہوئی اور نشست کی بنیاد پر وزیر اعظم آج (منگل)کو سعودی عرب جائیں گے تاکہ ان کی قیادت سے بھی بات کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی پاکستان کا بہت اہم دوست ہے ، ترکی نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور حال ہی میں مسئلہ کشمیر پر ترکی کی قیادت نے بڑھ چڑھ کر پاکستان کا ساتھ دیا، ابھی شام کا مسئلہ بنا ہے اور ترک صدر رجب طیب اردوان اوران کی پوری قیادت پاکستان کے د ورے پر آرہی ہے، ہمیں موقع ملے گا کہ ہم ان سے تفصیلات حاصل کر سکیں اور اپنا نقطہ نظر ان کی خدمت میں پیش کر سکیں، بنیادی طور پر یہ ترکی کی بارڈر سکیورٹی کا مسئلہ ہے اور ترکی دہشت گردی کی زد میں رہا ہے اور بہت سے دہشت گردی کے واقعات سے دوچار رہا ہے اور وہ اپنی بارڈر سکیورٹی کو بہتر کرنا چاہتے ہیں ، وہ عنقریب پاکستان تشریف لا رہے ہیں اس وقت ان سے بات ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں اپنا نقطہ نظر پیش کرے گا۔ آج میں پر اعتماد طریقہ سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہماری حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے پچھلی ایک دہائی میں ان معاملات میں پیش رفت کی ہے، منی لانڈرنگ کا ایشو ہو یا دہشت گردوں کی مالی معاونت کا معاملہ ہو اس پر پہلے کوئی ٹھوس کام نہیں ہوا تھا جو پچھلے 10سالوں میں نہیں ہوا وہ ہم گذشتہ 10ماہ میں کر گزرے ہیں ،یہ سارے واقعات، حالات اور جو اقدامات ہم نے لئے ہیں اس سے ہمارے وزیر حماد اظہر ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں ان تمام اقدامات کا ذکر کریں گے اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان نے جو پیش رفت کی ہے اس کو سراہا جائے گا اور بھارت جو آج بھی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کروایا جائے اور ہماری معلومات کے مطابق اب بھی اس نے کئی ممالک سے رابطے کئے ہیں کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلا جائے تاہم ہماری کوشش ہو گی کہ بھارت کو ایک مرتبہ پھر وہاں پر ناکامی ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں