حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات, دھرنا ختم کرنیکا فیصلہ جماعتوں نے کر نا ہے

(حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات ) دھرنا ختم کرنیکا فیصلہ جماعتوں نے کر نا ہے ،وزیراعظم کا استعفٰی چاہتے ہیں ( فضل الرحمن)

تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے یقین دلایا جے یو آئی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ،مارچ بارے افواہیں دم توڑ گئیں ،عمران خان پہلے سلیکٹڈ اب ریجیکٹڈ ، ناجائز حکمرانوں کو بھگا کر رہیں گے
حکمران جتنی جلد جائیں گے ،اضطراب دورہو جائیگا ،مارچ سے خطاب ،مسئلہ کا حل تلاش کر لینگے ، پرویز خٹک ، آج پھر مذاکرات ، شجاعت اور پرویز الٰہی کی بھی مولانافضل الرحمن سے ملاقات

اسلام آباد(لاہور پوسٹ)جے یو آئی کے سربراہ مو لانا فضل الرحمن نے کہا ہےکہ کم سے کم وزیر اعظم کا استعفیٰ اور زیادہ سے زیادہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں ،اصلاحات کے بغیر تو الیکشن ہمیں بھی منظور نہیں،دھرنا ختم کرنیکا فیصلہ اپوزیشن جماعتوں نے کر نا ہے، عمران خان پہلے سلیکٹڈ اب ریجیکٹڈ ہیں ۔مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ہم مطالبات کے قریب تر ہوتے جارہے ہیں، حزب اختلاف کی تما م سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا اور سب نے آزادی مارچ کو خوبصورت الفاظ میں پذیرائی بخشی ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے یقین دلایا ہے کہ اس محاذ پر جمعیت علمائے اسلام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور قدم بہ قدم ساتھ چلیں گے۔ مذہبی بنیادپر قو م کو تقسیم کرنا مغرب کی سازش ہے ،ہم مذہبی شناخت رکھتے ہوئے بھی فرقہ واریت کو تسلیم نہیں کرتے، ہم آئین کو میثاق ملی سمجھتے ہیں،پاکستان کی سیاسی جماعتیں قرآن و سنت سے آگے نہیں جاتیں،ہم آئین سے باہر کوئی بات نہیں کر رہے، پاکستان میں غیرمنتخب لوگ اقتدارپرقابض ہونگے تو اضطراب ہوگا ، بحیثیت شہری ہم مضطرب ہیں ہمارا اضطراب کون دورکرے گا ، ان حکمرانوں کوجاناہوگاقوم کے حق کوتسلیم کرناہوگا، ناجائز حکمرانوں کے ہوتے ہوئے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے، خطرے کی بات کیوں کی جاتی ہے ،ہم تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ہم نے 15ملین مارچ کر چکے ہیں جن میں اپوزیشن پارٹیاں شریک ہوئیں ، ہم پرامن لوگ ہیں اگر ہم سے تصادم ہوگا تو قوم کے ساتھ ہوگا ،ناجائزحکمران جتنی جلد جائے گااضطراب دورہو جائے گا ، عمران خان پہلے سلیکٹڈ وزیراعظم تھے اب ریجیکٹڈ ہو گئے ۔ فضل الرحمن نے وزیراعظم عمران خان پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ حزب اختلاف میں تھے تو بھی تنہا تھے اور آج حکومت میں ہیں تو بھی تنہا ہیں ۔تحریک انصاف کے 2014 کے دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ اس دھرنے میں ساری جماعتیں ایک طرف اور یہ (پی ٹی آئی سربراہ) ایک طرف تھے۔ان کا کہنا تھا اجتماع کے اٹھنے کا فیصلہ ہمیں کرنا ہے، آپ نے نہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے یقین دلایا ہے کہ وہ ہمیں تنہا نہیں چھوڑیں گے اور شانہ بشانہ چلیں گے، آج یہ افواہ بھی دم توڑ گئی کہ کون سی سیاسی جماعتیں ہمارے ساتھ ہیں اور کون نہیں ہیں، اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے آزادی مارچ کو پذیرائی بخشی۔فضل الرحمن نے کہا کہ ہم مقصد کے حصول کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں، تمام تنظیمیں اور پوری قوم ایک پیج پر اور متحد ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام ادارے ملکی استحکام سے متعلق اضطراب میں ہیں۔سربراہ جے یو آئی(ف) نے کہا کہ یہ اجتماع قوم کی آواز ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ہوچکی ہے جس کی وجہ سے پاکستان بھی داخلی طور پر غیر مستحکم ہوگیا ۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ جتنا وقت ان کو ملے گا ایک ایک دن پاکستان کے زوال کا دن ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اللہ کرے ہم عوام کی امیدوں پر پورا اتر سکیں ،موجودہ حکومت نے پاکستان کو قرضوں میں جکڑ دیا ہے اور ملک پوری طرح انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) کے شکنجے میں ہے۔ ہم نے جو آواز بلند کی وہ پوری قوم کی آواز ہے، یہ آواز اس نوجوان کی آواز ہے جو اپنے مستقبل کو تاریک دیکھ رہاہے،وزیراعظم عمران خان سمجھتے تھے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ان کے لیے رحمت کا ذریعہ بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کمزور پالیسیوں کی وجہ سے موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان تنہا نظر آرہاہے کیونکہ یہ پڑوسی ممالک کو اعتماد نہیں دے سکتا، خدا جانے یہ کس کا نمائندہ ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم عالمی برادری میں پاکستان کو تنہائی سے نکالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت مکمل طورپر آئی ایم ایف کے ہاتھ میں ہے ،عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو دیوالیہ قرار دینے کے قریب پہنچ چکے ہیں، اگر ان کو مزید وقت دیا جائے گا، ایک ایک دن پاکستان کے زوال کا دن ہوگا ہم پاکستان کے زوال کو مزید برداشت نہیں کرسکتے، ان کی خارجہ پالیسی ناکام، داخلی طورپر پاکستان غیر مستحکم ہے،پاکستان کے تمام ادارے اس وقت اضطراب میں ہیں، پاکستانی قوم اور اس کے ادارے ایک صفحہ پر آکر اپنے ملک کو داخلی اور خارجی استحکام دے سکتے ہیں ۔ سیاسی اور معاشی لحاظ سے مطمئن ہونا میرا آئینی حق ہے ،میں اس اپنے حق سے دستبردار ہونے کیلئے تیا رنہیں ۔ ان حکمرانوں کو جانا ہوگا ،قوم کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا، ناجائز حکمران کے ہوتے ہوئے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے ۔ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہےکہ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے،وزیر کہتے ہیں برداشت کریں، حکومت انا کو چھوڑ دے ،لوگ باہر نکل آئے ہیں ،حکومتی وزرا کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ملک کو حادثے سے دوچار کرسکتاہے،پی پی پی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے ، انھوں نے کہا کہ جمہوری اور قومی اداروں کے ساتھ ہیں، اس وقت اندرون و بیرون ملک ہر پاکستانی فکر مند ہے ،جیلوں میں ڈالنا آسان ہے لیکن جب وقت کا پہیہ گھومتا ہے تب احساس ہوتاہےیہ رویے پاکستان کے کیلئے زہر قاتل ہیں۔مولانا نے کہا کہ ہر طرف محاذ کھول لیے ہیں،ہم پاکستان کو عالمی برادری میں تنہائی سے نکالنا چاہتے ہیں، ان حکمرانوں کوجاناہوگا،قوم کےحق کوتسلیم کرناہوگا ،اس سےکم بات نہیں بنےگی۔قبل ازیں اے پی سی میں اتفاق کیا گیا ہے کہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ مل کر کیا جائے گا۔اے پی سی میں دھرنا مزید دو دن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے بھی اس کی حمایت کر دی ۔جے یو آئی کے سربراہ مو لانا فضل الرحمن نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ کم سے کم وزیر اعظم کا استعفی اور زیادہ سے زیادہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں ،اصلاحات کے بغیر تو الیکشن ہمیں بھی منظور نہیں ۔انہوں نے کہاکہ ایسے الیکشن کا کیا فائدہ جس میں پھر ایک فوجی پولنگ سٹیشن کے اندر اور دوسرا باہر کھڑا ہو ،موجودہ الیکشن ایکٹ پر بھی عمل کرلیا جائے تو نتائج بہتر ہوسکتے ہیں ،میں کارکن ہوں ،بڑی اپوزیشن جماعتوں سے اپوزیشن کا سٹیئرنگ نہیں چھینا، اے پی سی نے طے کردیا ہے کہ مارچ میں بیٹھے کارکن اب سب کے کارکن ہیں ۔انھوں نے ایک سوال کےجواب میں کہا کہ مقتدر حلقوں سے موجودہ صورتحال میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ مریم نواز کی ضمانت کی خبر سنی ہے، ابھی رہا نہیں ہوئیں، مریم نواز مارچ میں شرکت کریں گی یا نہیں ابھی نہیں کہہ سکتا، معاہدہ ہوا تو ضامن کی ضرورت نہیں۔ انھوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ہی نہیں استعفیٰ بھی تو آئینی آپشن ہے ،استعفیٰ نہیں آتا تو حکومت سنجیدہ نہیں ہوگی، ڈی چوک سے پرانا تعفن ختم نہیں ہوا، وزیر اعظم سے ذاتی اختلاف نہیں ،قومی مسئلہ ہے۔رہبرکمیٹی کےرہنما و سابق وفاقی وزیراکرم درانی نے اسلام آبادہائیکورٹ میں میڈیاسےگفتگوکرتےہوئے کہاکہ عمران خان نے کہا تھا پانچ سو لوگ کہیں تو استعفیٰ دیدوں گا، ہم اس الیکشن میں 9 اپوزیشن جماعتوں کے چار کروڑ بہتر لاکھ لوگ سامنے لے آئے ہیں۔ دھرنے کی وجہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے رہائشیوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ اپنے مطالبات کے لئے وفاقی دارالحکومت کی کشمیر ہائی وے پر بیٹھے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے احتجاجی مظاہرین نے قریبی آبادیوں، مارکیٹوں اور مساجد کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے جس کی وجہ سے قریبی علاقوں کے رہائشیوں اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے دفاتر آنے اور جانے والوں کو شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے اور چند کلومیٹر کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکا کو سرد موسم نے اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ۔ آزادی مارچ میں ملک کے دیگر شہروں سے شرکا کی بڑی تعداد موجود ہے۔ دھرنے کے 90 شرکا نزلہ زکام، کھانسی کے باعث پمز ہسپتال آ پہنچے۔

اسلام آباد (لاہور پوسٹ) اپوزیشن جماعتوں کے مارچ کے حوالے سے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سیاسی شخصیات جب بھی کسی مسئلہ پر مذاکرات کرتی ہیں تو مسئلہ کا حل تلاش کر لیتی ہیں، ہم پرامید ہیں کہ مسئلہ کا بہت جلد حل نکال لیا جائے گا، حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کے درمیان آج دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر رہبر کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے احتجاجی مارچ کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور رہبر کمیٹی نے ہمیں جو مطالبات پیش کئے ہیں وہ ہم اپنی قیادت تک پہنچائیں گے اور امید ہے کہ اس مسئلہ کا جلد حل تلاش کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی شخصیات جب بھی کسی مسئلہ پر مذاکرات کرتی ہیں تو وہ مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل تلاش کر لیتی ہیں۔ اس موقع پر اکرم خان درانی نے کہا کہ کمیٹی نے اپنے پرانے مطالبات حکومتی کمیٹی کے سامنے رکھے ہیں جس پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ قبل ازیں حکومتی مذاکراتی ٹیم اور رہبر کمیٹی کے درمیان ملاقات مولانا فضل الرحمن کی رہائشگاہ پر ہوئی۔ حکومتی وفد کی قیادت وزیر دفاع پرویز خٹک کر رہے تھے جبکہ رہبر کمیٹی کی سربراہی کنوینر اکرم خان درانی نے کی۔ حکومتی وفد میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین اسد عمر شامل تھے جبکہ رہبر کمیٹی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے فرحت اﷲ بابر، سیّد نیئر بخاری، قومی وطن پارٹی کے ہاشم بابر، نیشنل پارٹی کےطاہر بزنجو، اے این پی کے میاں افتخار حسین، مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر عباداﷲ، جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے شاہ اویس نورانی، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے شفیق پسروری، پختونخوا عوامی پارٹی کے عبدالصمد اچکزئی شامل تھے۔ادھر مسلم لیگ (ق) کے رہنما چودھری شجاعت اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں آزادی مارچ، ملکی سیاسی صورتحال سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔مولانا سے ملاقات سے قبل مختصر گفتگو کرتے ہوئے پرویز الٰہی نے کہا کہ ہم مفاہمت کے لیے آئے ہیں، مفاہمت سے ہی راستہ نکلے گا، وزیراعظم نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بلایا ہے، وزیراعظم کو تمام صورتحال سے آگاہ کریں گے۔
مذاکراتی کمیٹی

نواز شریف کی طبیعت میں بہتری، علاج پر15لاکھ خرچ

پلیٹ لیٹس40ہزار برقرار ، بلڈ پریشر نارمل ،سٹیرائیڈز کی وجہ سے شوگر میں اتار چڑھاؤ
میڈیکل بورڈ کے مختلف ممبران نے تفصیلی طبی معائنہ کیا ،شہباز شریف کی بھی ملاقات
لاہور(لاہور پوسٹ)سابق وزیر اعظم نوازشریف کا سروسز ہسپتال میں 14ویں روز 12 رکنی میڈیکل بورڈ کے مختلف ممبران نے تفصیلی طبی معائنہ کیا۔نوازشریف کا صبح بلڈ پریشر نارمل جبکہ فاسٹنگ میں شوگر معمول سے زیادہ رپورٹ ہوئی اور کولیسٹرول بھی زیادہ بتایا جارہا ہے۔نوازشریف کے معمول کے مطابق سی بی سی اور دیگر ٹیسٹ بھی کیے گئے۔نوازشریف کے پلیٹ لیٹس میں اتار چڑھائو کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور پلیٹ لیٹس40ہزار برقرار ہیں۔میڈیکل بورڈ نےکہا ہے نواز شریف کے پلیٹ لیٹس جب تک 50 ہزار سے تجاوز نہیں کرینگے تب تک کلوپیڈوگرل کا استعمال نہیں کروا سکتے ۔ نوازشریف کو دل اور گردہ کے مسائل علاج میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں جبکہ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی ٹویٹ کے مطابق نوازشریف کی حالت بدستور ٹھیک نہیں ہے۔بورڈ ذرائع کا کہنا ہے نوازشریف کی ادویات میں ردبدل کیا گیا ہے ۔میڈیکل بورڈ ذرائع کے مطابق سٹیرائیڈز کی وجہ سے نواز شریف کی شوگر میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے جسے قابو کرنے کیلئے انسولین کا استعمال کیا جا رہا ہے۔دنیا نیوز کے مطابق نواز شریف کی طبیعت میں بہتری ہوئی ہے تاہم میڈیکل بورڈ نے انہیں ابھی ڈسچارج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم سروسز ہسپتال سے منتقلی کا فیصلہ سابق وزیراعظم کی فیملی کرے گی۔دریں اثناءسابق وزیر اعظم نواز شریف سے شہباز شریف نے پیر کے روز بھی تفصیلی ملاقات کی اس کے علاوہ ان کی والدہ محترمہ شمیم بیگم اور ہمشیرہ کوثر بی بی ان کی عیادت کے لئے سروسز ہسپتال پہنچیں۔ مریم نواز کی ہائی کورٹ سے ضمانت منظوری کے بعد خواجہ عمران نذیر ، ایم پی اے جاوید مرز ا سمیت کارکنوں نے سروسز ہسپتال کے باہر شکرانے کے نفل ادا کئے اور نواز شریف کی صحت کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ دوسری طرف سروسز ہسپتال میں نواز شریف کے علاج پر14روز میں15لاکھ روپے سے زائد کا خرچہ ہوچکا ہے۔ دنیا ذرائع نے نوازشریف کیلئے ہسپتال کے بجٹ سے لو کل پر چیز کے ذریعے منگوائی جانے والی ادویات کی فہرست حاصل کرلی ہے جس میں پلیٹ لیٹس کی تعداد کو بڑھانے کیلئے آئی وی آئی جی کے 80 انجکشنز کی لاگت 10 لاکھ کے قریب بتائی جارہی ہے۔نواز شریف کیلئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مہنگی ادویات تجویز کی گئیں،انکے روزانہ کی بنیاد پر قیمتی ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق نواز شریف کی بیماری کی تشخیص کے لئے جینیٹک ٹیسٹنگ کی ضروت پڑے گی ،اسی ٹیسٹ سے ہی پلیٹ لیٹس میں ہونے والی کمی کے پیچھے وجوہات کا پتہ لگایا جا سکتا ہے تاہم پاکستان میں جینیٹک ٹیسٹنگ کی سہولت میسر ہی نہیں۔ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے نواز شریف کی بیماری کی تشخیص 14 روز گزرنے کے باوجود نہیں ہو سکی ہے۔

نیب کا مریم نواز کی ضمانت سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

نیب کا مریم نواز کی ضمانت سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ
لاہور (لاہور پوسٹ )نیب حکام نے لاہور ہائیکورٹ سے چودھری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کی ضمانت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔نیب ذرائع کے مطابق نیب لاہور کے اعلیٰ افسروں نے مریم نواز کی ضمانت پر چیئرمین جسٹس(ر)جاوید اقبال کو بریف کیا ہے جس کے بعد کہا جا رہا ہے نیب ہیڈ کوارٹر ز سے مریم نواز کی ضمانت کو چیلنج کرنے کا گرین سنگل دیا گیا ہے تاہم اس ضمن میں نیب اپنے وکلا کی مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کرے گا ۔

غیر ملکی فنڈنگ کیس ، الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو نوٹس

غیر ملکی فنڈنگ کیس ، الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو نوٹس
اسلام آباد (لاہور پوسٹ)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے غیر ملکی فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کو نوٹس جاری کردیا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹس میں وضاحت مانگی گئی ہے کہ پی ٹی آئی بتائے کہ اس کا غیر ملکی فنڈنگ کیس کی تحقیقات کے لئے قائم سکروٹنی کمیٹی کا بائیکاٹ مستقل ہے یا صرف 23 اکتوبر کے لئے تھا۔تحریک انصاف کو جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی میں شرکت کرے گی تو کمیٹی کو آگاہ کرے، سکروٹنی کمیٹی کا اجلاس 12 نومبر کو سماعت کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق اگر بائیکاٹ مستقل ہے تو کمیٹی اپنی کارروائی جاری رکھے اور دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں رپورٹ مرتب کرے۔ پی ٹی آئی نے فارن فنڈنگ کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی کمیٹی کوچیلنج کررکھاہے۔

شاہد خاقان ہسپتال منتقل،7 نومبر کو پتے ، ہرنیا کا آپریشن

شاہد خاقان ہسپتال منتقل،7 نومبر کو پتے ، ہرنیا کا آپریشن
آپریشن کی صورت میں مزید 7 دن نجی ہسپتال میں زیر علاج رکھاجائے گا
دل کے ڈاکٹرز بھی بلا کر معائنہ کیا گیا ، مزید ٹیسٹ لئے جا رہے ہیں،رپورٹ
راولپنڈی، اسلام آباد(لاہور پوسٹ)سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو اڈیالہ جیل سےنجی ہسپتال(شفا ہسپتال )منتقل کر دیا گیا ۔ سابق وزیراعظم کو کم از کم10 دن کیلئےہسپتال میں داخل کرلیاگیا۔ ڈاکٹر غلام صادق نے پتے اور ہرنیا کے آپریشن کیلئے 7 نومبر کی تاریخ دی ہے جو شاہد خاقان کی شوگر لیو ل ، بلڈ پریشر کے نارمل ہونے سے مشروط ہے۔ ڈاکٹر غلام صادق کے مطابق شاہد خاقان عباسی کو 7 نومبر کو آپریشن کی صورت میں مزید 7 دن ہسپتال میں زیر علاج رکھاجائے گا۔چند روز قبل میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل میں شاہد خاقان عباسی کا معائنہ کیا تھا جس میں گردے اور مثانے میں پتھری کی تشخیص ہوئی تھی۔ میڈیکل بورڈ نے شاہد عباسی کے ہرنیا کے آپریشن کی سفارش کی تاہم شاہد خاقان نے اپنے خرچ پر علاج کروانے کی عدالت سے درخواست کی تھی۔ ڈاکٹر غلام صادق کی جاری کردہ رپورٹ کے مطاق شاہد خاقان کو ٹینشن کی ادویات دی جا رہی ہیں ان کی دو ہفتے پہلے دائیں جانب کی ہرنیا بڑھ چکی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق شاہد خاقان چار سال پہلے بھی کولیسٹرول میں اضافہ کا شکار رہے ہیں ،ان کا بلڈ پریشر 160 اور100 تھا۔ دل کے ڈاکٹرز کو بھی بلا کر خاقان عباسی کا معائنہ کیا گیا ، ان کے مزید ٹیسٹ لئے جا رہے ہیں ۔
شاہد خاقان

شہباز شریف کا آزادی مارچ میں شرکت کا اعلان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں حکومت مخالف احتجاج پر مشاورت کی گئی۔ ن لیگی صدر نے آزادی مارچ میں شرکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اکتیس اکتوبر کو جلسے میں مطالبات پیش کریں گے۔
اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک میں کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی عروج پر ہے، عوام مہنگی ادویات سے پریشان ہیں، پورے ملک میں کاروبار بند ہیں۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے، وہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے جے یو آئی کے آزادی مارچ میں شرکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ہر میدان میں فیل ہو چکی، اسے گھر جانا ہوگا۔ہباز شریف نے کہا کہ حکومت کو گھر جانا چاہیے اور نئے انتخابات ہونے چاہیں۔ آزادی مارچ سے متعلق نواز شریف کی ہدایات ہمیں ملیں گی۔ 31 اکتوبر کو جلسہ میں اپنے مطالبات پیش کریں گے، اس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں عوام سے وعدہ کیا کہ اگر صاف اور شفاف الیکشن کے نتیجے میں انھیں دوبارہ حکومت بنانے کا موقع ملا تو وہ اسی معیشت کو انشا اللہ صرف 6 ماہ میں اپنے پاؤں پر کھڑا کرکے دکھائیں گے۔ ہم پاکستان کو ایک اونچے درجے پر لے کر گئے اور انشا اللہ دوبارہ بھی لے کر جائیں گے۔ صرف یہی ہماری منشا ہے، اس کے علاوہ کوئی اور چیز سے سروکار نہیں ہے۔ اس حکومت نے پاکستان کو تباہ کر دیا ہے، ہم دوبارہ پاکستان کو اس کے پاؤں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔

ہزاروں کشمیری تاحال جیلوں میں بند ہیں جن میں 9 برس کے بچے بھی شامل ہیں۔

لوگ بھارتی فورسز کے خوف و ڈر کی وجہ سے کیمرے کے سامنے آنے سے کتراتے ہیں
گرفتار افراد کے ساتھ بہیمانہ سلوک روا رکھا جارہا ہے اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔

دوہا(لاہور پوسٹ) الجزیرہ ٹیلی ویژن نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ہزاروں کشمیری تاحال جیلوں میں بند ہیں جن میں 9 برس کے بچے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گرفتار افراد کے ساتھ بہیمانہ سلوک روا رکھا جارہا ہے اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ لوگ بھارتی فورسز کے خوف و ڈر کی وجہ سے کیمرے کے سامنے آنے سے کتراتے ہیں

فواد چوہدری کے بیان کو سیاق و سباق کے بغیر پیش کیا گیا

نوکریوں کے حوالے سے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے بیان کو سیاق و سباق کے بغیر پیش کیا گیا ،ترجمان
بیان کا مطلب حکومت کی پالیسیز کا مقصد پرائیویٹ سیکٹر میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے،ملک میں صنعت و تجارت کو فروغ دینا ہے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں
اسلام آباد :فاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے ترجمان نے کہا ہے کہ نوکریوں کے حوالے سے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے بیان کو سیاق و سباق کے بغیر پیش کیا گیا ہے۔ایک بیان میں فواد چوہدری نے کہاکہ بیان کا مطلب حکومت کی پالیسیز کا مقصد پرائیویٹ سیکٹر میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے،ملک میں صنعت و تجارت کو فروغ دینا ہے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی اولین ترجیح معیشت کے استحکام کے لیئے ایک سازگار ماحول بنانا ہے جس میں صنعت و تجارت کو فروغ ملے۔فواد چوہدری کے مطابق فواد چوہدری نے ان اداروں کو ختم کرنے کی بات کی جن کا معیشت کے استحکام میں کوء کردار نہیں بلکہ ایسے ادارے معیشت پر بوجھ ہیں۔فواد چوہدری نے کہاکہ ایسے اداروں کو ختم کرنا اور حکومت کے حجم کو کم کرنا تحریک انصاف کی حکومت کی کفایت شعاری مہم کا حصہ ہے۔ فواد چوہدری نے کہاکہ جدید جمہوری دور میں حکومتی حجم کو کم سے کم رکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے تاکہ معیشت پر سے بوجھ کم کیا جاسکے۔

شمالی شام سے اپنے 1 ہزار فوجی واپس بلا رہے ہیں ، امریکی وزیردفاع

مذاکرات میں صدر ٹرمپ نے مجھے شام سے منظم طریقے سے فوجی انخلا کے آغاز کا حکم دیا ہے،مارک ایسپر

واشنگٹن(لاہور پوسٹ)امریکا نے شام سے ایک ہزارفوجی واپس بلانے کا اعلان کیاہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کا اعلان امریکہ کے وزیر دفاع مارک ایسپر نے کیا ہے۔ایک انٹرویو میں مارک ایسپر نے کہا ہے کہ ہم شام کے شمال سے اپنے ایک ہزار فوجیوں کو پیچھے ہٹا رہے ہیں۔ایسپر نے کہا ہے کہ یہ انخلا جلد کیا جائے گا۔قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے بعد ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کی یاد دہانی کرواتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ مذاکرات میں صدر ٹرمپ نے مجھے شام کے شمال سے منظم طریقے سے فوجی انخلا کے آغاز کا حکم دیا ہے۔

پنجاب، 24 گھنٹوں میں 131 افراد ڈینگی کا شکار

مختلف ہسپتا لوں میں 8 مریضوں کی حالت تشویش ناک

لاہور(لاہور پوسٹ)محکمہ صحت پنجاب کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 131 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 115 مریضوں کا تعلق راولپنڈی سے ہے، مختلف ہسپتا لوں میں 8 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔محکمہ صحت پنجاب کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اٹک میں 3، لاہور میں 2 اور ڈی جی خان اور چکوال میں ایک ایک مریض رپورٹ ہوا ہے۔پنجاب کے مختلف ہسپتا لوں میں اس وقت502 مریض زیرِعلاج ہیں،جن میں سے 8 کی حالت تشویشناک ہے، گزشتہ 3 ماہ کے دوران 10 افراد ڈینگی کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔دوسری جانب پنجاب میں انسدادِ ڈینگی کی ٹیموں نے ایک ہزار208 مقامات سے ڈینگی لاروا تلف کیا، ڈینگی لارواکی موجودگی پر 61 مقدمات درج کرکے 20 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ ایک ہزار 232 افراد کو وارننگ دی گئی۔