107

پانی بحران پر بین الاقوامی سمپوزیم، ماہرین کے خطابات، تجاویز پیش

قانون و انصاف کمیشن کے زیر اہتمام واٹر کانفرنس میں شرکا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پانی کی صورتحال مایوس کن ہے، آبی ذخائر دنیا کی کم ترین سطح پر ہے، خطے کے دیگر ممالک کے ہزاروں ڈیموں کے مقابلے میں پاکستان میں آج تک چھوٹے بڑے صرف 155 ڈیمز تعمیر کیے گئے۔

واٹر کانفرنس کے دوسرے روز پہلے سیشن سے غیر ملکی ماہر ڈونلڈ بلیک مور اور گریگری مورس خطاب کیا۔ کانفرنس سے پاکستان واٹر پارٹنرشپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد طارق نے بتایا کہ پاکستان میں پانی کی صورتحال مایوس کن ہے، پاکستان میں پانی فی کس سٹوریج دنیا کی کم ترین سطح پر ہے، امریکہ میں 6150 ملین مکعب فٹ فی کس سٹوریج ہے، آسٹریلیا میں 5 ہزار ملین مکعب فٹ سٹوریج فی کس ہے، پاکستان میں فی کس سٹوریج 52 ملین مکعب فٹ ہے۔

شرکا کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس 900 دن کا ذخیرہ، مصر 1000 دن ہے، جبکہ پاکستان کے پاس صرف 30 دن کا پانی کا ذخیرہ رکھنے کی صلاحیت ہے، اسی طرح پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے چین میں 23842، امریکہ میں 9265، بھارت میں 5102، جاپان میں 3116 ڈیمز بنائے گئے جبکہ پاکستان میں 1947 سے آج تک چھوٹے بڑے صرف 155 ڈیمز تعمیر کیے گئے۔ نیسپاک کے نائب صدر اور محکمہ آبپاشی کے سابق سیکرٹری خالد حیدر میمن بھی خطاب کریں گے۔

دوسرے سیشن سے سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ اور واپڈا کے ایم ڈی فنانس نوید اصغر خطاب کریں گے۔ وزارت منصوبہ بندی کے سینئر چیف نصیر گیلانی اور لمز کے پروفیسر خالد مرزا بھی خطاب کریں گے۔ کانفرنس سے ڈوئچے بینک کے چیف کنڑی آفیسر سید احمد حسن، ایچ بی ایل کارپوریٹ انوسٹمنٹ بینکنگ کے سربراہ فرحان طالب بھی سیشن سے خطاب کریں گے۔

تیسرے سیشن سے آئی ڈبلیوایم آئی کے ریجنل ڈائریکٹر برائے ایشیا آئن میکن، آسٹریلیا کے آبی، غذائی اور زراعت کے ماہر جان ڈورے، ڈبلیو ڈبلیو ایف این پی کے سربراہ حماد نقی خان خطاب کریں گے۔ یو ایس ایڈ کے ماہر آبپاشی و آبی وسائل نواز خان، پنجاب حکومت کے مشیر پروفیسرمحمد شفیق صدیق بھی کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

کانفرنس کے چوتھے سیشن میں غیرملکی ماہرین اپنے مکالے پیش کریں گے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کریں گے، کانفرنس کے اختتام پر اعلان اسلام آباد جاری کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں