209

عالمی بینک نے پاکستان میں آئندہ سال مزید مہنگائی کا خدشہ ظاہر کردیا

2020 میں مہنگائی کی شرح 13 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے اور سال 2021 میں مہنگائی کی شرح 8.3 فیصد رہنے کی توقع ہے
2020 ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے،نسی کی شرح تبادلہ میں اضافے سے برآمدات میں اضافہ اور درآمدات معقول ہونے کی توقع ہے،رپورٹ

اسلام آباد(لاہور پوسٹ)عالمی بینک نے پاکستان میں مزید مہنگائی کا خدشہ ظاہر کردیا۔عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق سال 2019 میں پاکستان کی ترقی کی شرح 3.3 فیصد اور 2020 میں 2.4 فیصد رہے گی جبکہ 2021 میں ترقی کی شرح 3 فیصد رہنے کی توقع ہے پاکستان میں ترقی کی شرح میں کمی کی وجہ سخت مانیٹری پالیسی ہے۔رپورٹ میں کہا گیاکہ پاکستان میں ترقی کی شرح میں بہتری پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں استحکام سے بھی مشروط ہے، اس کے علاوہ پاکستان میں ترقی کی شرح میں بہتری سیاسی اور سکیورٹی خطرات میں کمی سے منسلک ہے جب کہ ادارہ جاتی اصلاحات سے معیشت کی صورتحال میں بہتری کی امید ہے۔رپورٹ کے مطابق 2020 میں مہنگائی کی شرح 13 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے اور سال 2021 میں مہنگائی کی شرح 8.3 فیصد رہنے کی توقع ہے، پٹرولیم مصنوعات منہگی ہونے سے پاکستان میں کرنسی کی شرح تبادلہ بھی بدلنے کاامکان ہے۔عالمی بینک نے کہا کہ 2020 ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے، مالی سال 2021 میں کرنٹ اکانٹ خسارہ جی ڈی پی کے 2.2 فیصد تک رہے گا،کرنسی کی شرح تبادلہ میں اضافے سے برآمدات میں اضافہ اور درآمدات معقول ہونے کی توقع ہے، مالی سال 2021 میں مالی خسارہ جی ڈی پی کے 6.2 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2021 میں پاکستان کے قرضوں کی شرح جی ڈی پی کے 80.8 فیصد رہنے کی توقع ہے، پاکستان کے بڑھتے قرضوں کی وجہ سے اس کی معیشت غیر محفوظ رہنے کا خدشہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیاکہ میکرو اکنامک اصلاحات کی وجہ سے غربت میں کمی رکی رہے گی اور غربت میں کمی رکنیکی دوسری وجہ شرح نمو میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں