62

فضل الرحمان کادھرنا، ن لیگ اورپیپلزپارٹی فائنانسر ہیں، فوادچوہدری

تینوں جماعتوں کے پاس کوئی بیانیہ نہیں، دھرنے کا مستقبل اور کامیابی کا کوئی امکان نہیں، کابینہ میں رد و بدل وزیراعظم کا اختیار ہے، یہ ان کا حق ہے کہ وہ جس کو چاہیں کابینہ میں رکھیں اور جسے چاہیں نہ رکھیں،وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا انٹرویو،اسلام آباد(لاہور پوسٹ)وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے دعوی کیا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی حکومت کیخلاف مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کو فائنانس کررہے ہیں۔ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی فضل الرحمان کے دھرنے کو حکومت کیخلاف دبا وبڑھانے کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں، ان کا مقصد اپنے رہنماوں (نواز شریف اور آصف زرداری)کو جیل سے رہائی دلوانا ہے، وہ نہیں چاہتے کہ حکومت کرپشن کیسز کو آگے لے کر جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ فضل الرحمان کے پاس لوگ نہیں ہیں، ن لیگ اور پیپلزپارٹی مولانا فضل الرحمان کو فائنانس کررہے ہیں، اپوزیشن کے پاس کوئی بیانیہ نہیں جس پر لوگ جمع ہوں، مولانا مدرسے کے بچوں پر تکیہ کررہے ہیں، باقی دونوں جماعتوں کے پاس بھی لوگ نہیں، یہ تینوں جماعتیں اپنے ذاتی مقاصد کیلئے احتجاجی سیاست کرنا چاہتی ہیں، انہیں عوام کی کوئی فکر نہیں، عام آدمی کو احتجاجی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں، دھرنے کا مستقبل اور کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کابینہ میں رد و بدل وزیراعظم کا اختیار ہے، یہ ان کا حق ہے کہ وہ جس کو چاہیں کابینہ میں رکھیں اور جسے چاہیں نہ رکھیں، کابینہ میں تبدیلی سے پورا ملک متاثر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس پر گفتگو ہوتی ہے، اعلی عہدوں پر فائز لوگ کوشش کررہے ہیں کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف پہنچے، کابینہ میں موجود لوگ اس میں سنجیدہ ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ کچھ باتیں سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کی جاتی ہیں جس سے سیاستدانوں کا مذاق بنتا ہے، اب تو پوری ویڈیو فلم چل جاتی ہے، میڈیا دو دھاری تلوار ہے، اس کا صحیح استعمال کریں گے تو فائدہ ورنہ نقصان ہوگا، لوگوں کو ٹی وی پر آنے کا شوق ہوتا ہے جس سے بہت سے لوگ ایکسپوز ہوجاتے ہیں، پرانے اور سمجھدار سیاستدان زیادہ ٹی وی پر نہیں آتے، پیچھے بیٹھ کر اپنا کام کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ٹی وی پر زیادہ آنے کے نقصانات بھی ہیں، ایسے لوگوں کی بلاوجہ دشمنیاں بھی بڑھ جاتی ہیں اور فضول سازشوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، لوگوں کو حق ہے کہ سیاستدانوں کو اچھی طرح جان سکیں، یہی کام ٹی وی کا ہے کہ لوگوں کی اصل حقیقت عوام کے سامنے لائے۔ایک سوال پر فواد چوہدری بولے کہ محدود پیمانے پر ڈیجیٹل پیمنٹ کا نظام فعال ہے، 6 بینکوں نے موبائل فون پیمنٹ کی سروس شروع کردی ہے، مکمل فعال نظام کیلئے غیر ملکی کمپنیوں کی ضرورت ہے جو پاکستان آکر اپنے ڈیجیٹیل گیٹ ویز کھولیں، وزیراعظم کو پے پال اور ٹین سینٹس سے متعلق بریفنگ دی ہے کہ ایسے اداروں کا پاکستان آنا کیوں ضروری ہے، عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ چین اور امریکا کی قیادت سے اس حوالے سے بات کریں گے تاکہ عالمی ادارے پاکستان میں آکر کام کریں۔وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں ہر شعبہ کو ڈیجیٹلائز کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دو طرح کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے، ایک تو نادرا کے ذریعے 22 کروڑ لوگوں کا ریکارڈ جمع کیا گیا جو ایک معجزہ ہے، جبکہ دوسرا 14 کروڑ موبائل فون کا ڈیٹا بھی بائیو میٹرک کے ذریعے رجسٹرڈ کیا، کئی وجوہات کی بنا پر اتنے بڑے ڈیٹا کو آج تک صحیح طور پر استعمال ہی نہیں کر پائے، اس ڈیٹا کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی ضرورت ہے، لیگل سسٹم سمیت دیگر اداروں کو بھی ڈیجیٹلائز کرنا ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں