135

نواز شریف کی طبیعت میں بہتری، علاج پر15لاکھ خرچ

پلیٹ لیٹس40ہزار برقرار ، بلڈ پریشر نارمل ،سٹیرائیڈز کی وجہ سے شوگر میں اتار چڑھاؤ
میڈیکل بورڈ کے مختلف ممبران نے تفصیلی طبی معائنہ کیا ،شہباز شریف کی بھی ملاقات
لاہور(لاہور پوسٹ)سابق وزیر اعظم نوازشریف کا سروسز ہسپتال میں 14ویں روز 12 رکنی میڈیکل بورڈ کے مختلف ممبران نے تفصیلی طبی معائنہ کیا۔نوازشریف کا صبح بلڈ پریشر نارمل جبکہ فاسٹنگ میں شوگر معمول سے زیادہ رپورٹ ہوئی اور کولیسٹرول بھی زیادہ بتایا جارہا ہے۔نوازشریف کے معمول کے مطابق سی بی سی اور دیگر ٹیسٹ بھی کیے گئے۔نوازشریف کے پلیٹ لیٹس میں اتار چڑھائو کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور پلیٹ لیٹس40ہزار برقرار ہیں۔میڈیکل بورڈ نےکہا ہے نواز شریف کے پلیٹ لیٹس جب تک 50 ہزار سے تجاوز نہیں کرینگے تب تک کلوپیڈوگرل کا استعمال نہیں کروا سکتے ۔ نوازشریف کو دل اور گردہ کے مسائل علاج میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں جبکہ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی ٹویٹ کے مطابق نوازشریف کی حالت بدستور ٹھیک نہیں ہے۔بورڈ ذرائع کا کہنا ہے نوازشریف کی ادویات میں ردبدل کیا گیا ہے ۔میڈیکل بورڈ ذرائع کے مطابق سٹیرائیڈز کی وجہ سے نواز شریف کی شوگر میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے جسے قابو کرنے کیلئے انسولین کا استعمال کیا جا رہا ہے۔دنیا نیوز کے مطابق نواز شریف کی طبیعت میں بہتری ہوئی ہے تاہم میڈیکل بورڈ نے انہیں ابھی ڈسچارج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم سروسز ہسپتال سے منتقلی کا فیصلہ سابق وزیراعظم کی فیملی کرے گی۔دریں اثناءسابق وزیر اعظم نواز شریف سے شہباز شریف نے پیر کے روز بھی تفصیلی ملاقات کی اس کے علاوہ ان کی والدہ محترمہ شمیم بیگم اور ہمشیرہ کوثر بی بی ان کی عیادت کے لئے سروسز ہسپتال پہنچیں۔ مریم نواز کی ہائی کورٹ سے ضمانت منظوری کے بعد خواجہ عمران نذیر ، ایم پی اے جاوید مرز ا سمیت کارکنوں نے سروسز ہسپتال کے باہر شکرانے کے نفل ادا کئے اور نواز شریف کی صحت کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ دوسری طرف سروسز ہسپتال میں نواز شریف کے علاج پر14روز میں15لاکھ روپے سے زائد کا خرچہ ہوچکا ہے۔ دنیا ذرائع نے نوازشریف کیلئے ہسپتال کے بجٹ سے لو کل پر چیز کے ذریعے منگوائی جانے والی ادویات کی فہرست حاصل کرلی ہے جس میں پلیٹ لیٹس کی تعداد کو بڑھانے کیلئے آئی وی آئی جی کے 80 انجکشنز کی لاگت 10 لاکھ کے قریب بتائی جارہی ہے۔نواز شریف کیلئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مہنگی ادویات تجویز کی گئیں،انکے روزانہ کی بنیاد پر قیمتی ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق نواز شریف کی بیماری کی تشخیص کے لئے جینیٹک ٹیسٹنگ کی ضروت پڑے گی ،اسی ٹیسٹ سے ہی پلیٹ لیٹس میں ہونے والی کمی کے پیچھے وجوہات کا پتہ لگایا جا سکتا ہے تاہم پاکستان میں جینیٹک ٹیسٹنگ کی سہولت میسر ہی نہیں۔ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے نواز شریف کی بیماری کی تشخیص 14 روز گزرنے کے باوجود نہیں ہو سکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں