81

مدرسے کا طالبعلم ووٹ ڈالتا ہے تو اسے احتجاج کا بھی حق ہے، مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کیخلاف آزادی مارچ قومی سطح کی تحریک ہے۔ صرف اپوزیشن نہیں حکومتی جماعتیں بھی ہم سے اتفاق کر چکی ہیں۔پہلے انہوں نے سیاسی مخالفین پر مقدمات درج کئے۔ احتسابی عمل کے ذریعے معاشی ناکامی سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔ سارا ملک بحران سے گزر رہا ہے۔ پہلے مرغیاں، پھر کٹے اور اب لنگر خانے چلائے جا رہے ہیں۔ یہ حکومت ناکام ہی نہیں ناجائز بھی ہے۔چنیوٹ میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ساری دنیا کی چوریاں ایک طرف اور حکومتی پارٹی کی چوریاں ایک طرف، 70 سال کا قرضہ موجودہ حکومت کی جانب سے لیے گئے قرضے سے کم ہے۔ آئندہ 2 سال میں بھی ملک کی معاشی حالت بدلنے کی کوئی امید نہیں ہے.ان کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ نہیں ہوتی، ریاست کی بات ہوتی ہے، یہ عمران خان کی حماقت ہے یا سازش؟ دنیا کے سامنے ایٹمی حملے کی بات کرکے وزیراعظم نے بہت بڑی حماقت کر دی ہے۔اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ میں ملک کے عوام کونے کونے سے نکلیں گے۔ ہم بتائیں گے عوام کا سیلاب کیا ہوتا ہے۔ 27 اکتوبر کو مارچ کا آغاز کرنا ہے اور 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہونگے۔ تمام مدارس پرامن ہیں، ہم پرامن شہری کی حیثیت سے اسلام آباد جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں