140

حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات, دھرنا ختم کرنیکا فیصلہ جماعتوں نے کر نا ہے

(حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات ) دھرنا ختم کرنیکا فیصلہ جماعتوں نے کر نا ہے ،وزیراعظم کا استعفٰی چاہتے ہیں ( فضل الرحمن)

تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے یقین دلایا جے یو آئی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ،مارچ بارے افواہیں دم توڑ گئیں ،عمران خان پہلے سلیکٹڈ اب ریجیکٹڈ ، ناجائز حکمرانوں کو بھگا کر رہیں گے
حکمران جتنی جلد جائیں گے ،اضطراب دورہو جائیگا ،مارچ سے خطاب ،مسئلہ کا حل تلاش کر لینگے ، پرویز خٹک ، آج پھر مذاکرات ، شجاعت اور پرویز الٰہی کی بھی مولانافضل الرحمن سے ملاقات

اسلام آباد(لاہور پوسٹ)جے یو آئی کے سربراہ مو لانا فضل الرحمن نے کہا ہےکہ کم سے کم وزیر اعظم کا استعفیٰ اور زیادہ سے زیادہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں ،اصلاحات کے بغیر تو الیکشن ہمیں بھی منظور نہیں،دھرنا ختم کرنیکا فیصلہ اپوزیشن جماعتوں نے کر نا ہے، عمران خان پہلے سلیکٹڈ اب ریجیکٹڈ ہیں ۔مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ہم مطالبات کے قریب تر ہوتے جارہے ہیں، حزب اختلاف کی تما م سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا اور سب نے آزادی مارچ کو خوبصورت الفاظ میں پذیرائی بخشی ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے یقین دلایا ہے کہ اس محاذ پر جمعیت علمائے اسلام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور قدم بہ قدم ساتھ چلیں گے۔ مذہبی بنیادپر قو م کو تقسیم کرنا مغرب کی سازش ہے ،ہم مذہبی شناخت رکھتے ہوئے بھی فرقہ واریت کو تسلیم نہیں کرتے، ہم آئین کو میثاق ملی سمجھتے ہیں،پاکستان کی سیاسی جماعتیں قرآن و سنت سے آگے نہیں جاتیں،ہم آئین سے باہر کوئی بات نہیں کر رہے، پاکستان میں غیرمنتخب لوگ اقتدارپرقابض ہونگے تو اضطراب ہوگا ، بحیثیت شہری ہم مضطرب ہیں ہمارا اضطراب کون دورکرے گا ، ان حکمرانوں کوجاناہوگاقوم کے حق کوتسلیم کرناہوگا، ناجائز حکمرانوں کے ہوتے ہوئے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے، خطرے کی بات کیوں کی جاتی ہے ،ہم تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ہم نے 15ملین مارچ کر چکے ہیں جن میں اپوزیشن پارٹیاں شریک ہوئیں ، ہم پرامن لوگ ہیں اگر ہم سے تصادم ہوگا تو قوم کے ساتھ ہوگا ،ناجائزحکمران جتنی جلد جائے گااضطراب دورہو جائے گا ، عمران خان پہلے سلیکٹڈ وزیراعظم تھے اب ریجیکٹڈ ہو گئے ۔ فضل الرحمن نے وزیراعظم عمران خان پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ حزب اختلاف میں تھے تو بھی تنہا تھے اور آج حکومت میں ہیں تو بھی تنہا ہیں ۔تحریک انصاف کے 2014 کے دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ اس دھرنے میں ساری جماعتیں ایک طرف اور یہ (پی ٹی آئی سربراہ) ایک طرف تھے۔ان کا کہنا تھا اجتماع کے اٹھنے کا فیصلہ ہمیں کرنا ہے، آپ نے نہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے یقین دلایا ہے کہ وہ ہمیں تنہا نہیں چھوڑیں گے اور شانہ بشانہ چلیں گے، آج یہ افواہ بھی دم توڑ گئی کہ کون سی سیاسی جماعتیں ہمارے ساتھ ہیں اور کون نہیں ہیں، اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے آزادی مارچ کو پذیرائی بخشی۔فضل الرحمن نے کہا کہ ہم مقصد کے حصول کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں، تمام تنظیمیں اور پوری قوم ایک پیج پر اور متحد ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام ادارے ملکی استحکام سے متعلق اضطراب میں ہیں۔سربراہ جے یو آئی(ف) نے کہا کہ یہ اجتماع قوم کی آواز ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ہوچکی ہے جس کی وجہ سے پاکستان بھی داخلی طور پر غیر مستحکم ہوگیا ۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ جتنا وقت ان کو ملے گا ایک ایک دن پاکستان کے زوال کا دن ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اللہ کرے ہم عوام کی امیدوں پر پورا اتر سکیں ،موجودہ حکومت نے پاکستان کو قرضوں میں جکڑ دیا ہے اور ملک پوری طرح انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) کے شکنجے میں ہے۔ ہم نے جو آواز بلند کی وہ پوری قوم کی آواز ہے، یہ آواز اس نوجوان کی آواز ہے جو اپنے مستقبل کو تاریک دیکھ رہاہے،وزیراعظم عمران خان سمجھتے تھے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ان کے لیے رحمت کا ذریعہ بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کمزور پالیسیوں کی وجہ سے موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان تنہا نظر آرہاہے کیونکہ یہ پڑوسی ممالک کو اعتماد نہیں دے سکتا، خدا جانے یہ کس کا نمائندہ ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم عالمی برادری میں پاکستان کو تنہائی سے نکالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت مکمل طورپر آئی ایم ایف کے ہاتھ میں ہے ،عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو دیوالیہ قرار دینے کے قریب پہنچ چکے ہیں، اگر ان کو مزید وقت دیا جائے گا، ایک ایک دن پاکستان کے زوال کا دن ہوگا ہم پاکستان کے زوال کو مزید برداشت نہیں کرسکتے، ان کی خارجہ پالیسی ناکام، داخلی طورپر پاکستان غیر مستحکم ہے،پاکستان کے تمام ادارے اس وقت اضطراب میں ہیں، پاکستانی قوم اور اس کے ادارے ایک صفحہ پر آکر اپنے ملک کو داخلی اور خارجی استحکام دے سکتے ہیں ۔ سیاسی اور معاشی لحاظ سے مطمئن ہونا میرا آئینی حق ہے ،میں اس اپنے حق سے دستبردار ہونے کیلئے تیا رنہیں ۔ ان حکمرانوں کو جانا ہوگا ،قوم کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا، ناجائز حکمران کے ہوتے ہوئے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے ۔ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہےکہ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے،وزیر کہتے ہیں برداشت کریں، حکومت انا کو چھوڑ دے ،لوگ باہر نکل آئے ہیں ،حکومتی وزرا کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ملک کو حادثے سے دوچار کرسکتاہے،پی پی پی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے ، انھوں نے کہا کہ جمہوری اور قومی اداروں کے ساتھ ہیں، اس وقت اندرون و بیرون ملک ہر پاکستانی فکر مند ہے ،جیلوں میں ڈالنا آسان ہے لیکن جب وقت کا پہیہ گھومتا ہے تب احساس ہوتاہےیہ رویے پاکستان کے کیلئے زہر قاتل ہیں۔مولانا نے کہا کہ ہر طرف محاذ کھول لیے ہیں،ہم پاکستان کو عالمی برادری میں تنہائی سے نکالنا چاہتے ہیں، ان حکمرانوں کوجاناہوگا،قوم کےحق کوتسلیم کرناہوگا ،اس سےکم بات نہیں بنےگی۔قبل ازیں اے پی سی میں اتفاق کیا گیا ہے کہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ مل کر کیا جائے گا۔اے پی سی میں دھرنا مزید دو دن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے بھی اس کی حمایت کر دی ۔جے یو آئی کے سربراہ مو لانا فضل الرحمن نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ کم سے کم وزیر اعظم کا استعفی اور زیادہ سے زیادہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں ،اصلاحات کے بغیر تو الیکشن ہمیں بھی منظور نہیں ۔انہوں نے کہاکہ ایسے الیکشن کا کیا فائدہ جس میں پھر ایک فوجی پولنگ سٹیشن کے اندر اور دوسرا باہر کھڑا ہو ،موجودہ الیکشن ایکٹ پر بھی عمل کرلیا جائے تو نتائج بہتر ہوسکتے ہیں ،میں کارکن ہوں ،بڑی اپوزیشن جماعتوں سے اپوزیشن کا سٹیئرنگ نہیں چھینا، اے پی سی نے طے کردیا ہے کہ مارچ میں بیٹھے کارکن اب سب کے کارکن ہیں ۔انھوں نے ایک سوال کےجواب میں کہا کہ مقتدر حلقوں سے موجودہ صورتحال میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ مریم نواز کی ضمانت کی خبر سنی ہے، ابھی رہا نہیں ہوئیں، مریم نواز مارچ میں شرکت کریں گی یا نہیں ابھی نہیں کہہ سکتا، معاہدہ ہوا تو ضامن کی ضرورت نہیں۔ انھوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ہی نہیں استعفیٰ بھی تو آئینی آپشن ہے ،استعفیٰ نہیں آتا تو حکومت سنجیدہ نہیں ہوگی، ڈی چوک سے پرانا تعفن ختم نہیں ہوا، وزیر اعظم سے ذاتی اختلاف نہیں ،قومی مسئلہ ہے۔رہبرکمیٹی کےرہنما و سابق وفاقی وزیراکرم درانی نے اسلام آبادہائیکورٹ میں میڈیاسےگفتگوکرتےہوئے کہاکہ عمران خان نے کہا تھا پانچ سو لوگ کہیں تو استعفیٰ دیدوں گا، ہم اس الیکشن میں 9 اپوزیشن جماعتوں کے چار کروڑ بہتر لاکھ لوگ سامنے لے آئے ہیں۔ دھرنے کی وجہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے رہائشیوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ اپنے مطالبات کے لئے وفاقی دارالحکومت کی کشمیر ہائی وے پر بیٹھے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے احتجاجی مظاہرین نے قریبی آبادیوں، مارکیٹوں اور مساجد کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے جس کی وجہ سے قریبی علاقوں کے رہائشیوں اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے دفاتر آنے اور جانے والوں کو شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے اور چند کلومیٹر کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکا کو سرد موسم نے اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ۔ آزادی مارچ میں ملک کے دیگر شہروں سے شرکا کی بڑی تعداد موجود ہے۔ دھرنے کے 90 شرکا نزلہ زکام، کھانسی کے باعث پمز ہسپتال آ پہنچے۔

اسلام آباد (لاہور پوسٹ) اپوزیشن جماعتوں کے مارچ کے حوالے سے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سیاسی شخصیات جب بھی کسی مسئلہ پر مذاکرات کرتی ہیں تو مسئلہ کا حل تلاش کر لیتی ہیں، ہم پرامید ہیں کہ مسئلہ کا بہت جلد حل نکال لیا جائے گا، حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کے درمیان آج دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر رہبر کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے احتجاجی مارچ کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور رہبر کمیٹی نے ہمیں جو مطالبات پیش کئے ہیں وہ ہم اپنی قیادت تک پہنچائیں گے اور امید ہے کہ اس مسئلہ کا جلد حل تلاش کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی شخصیات جب بھی کسی مسئلہ پر مذاکرات کرتی ہیں تو وہ مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل تلاش کر لیتی ہیں۔ اس موقع پر اکرم خان درانی نے کہا کہ کمیٹی نے اپنے پرانے مطالبات حکومتی کمیٹی کے سامنے رکھے ہیں جس پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ قبل ازیں حکومتی مذاکراتی ٹیم اور رہبر کمیٹی کے درمیان ملاقات مولانا فضل الرحمن کی رہائشگاہ پر ہوئی۔ حکومتی وفد کی قیادت وزیر دفاع پرویز خٹک کر رہے تھے جبکہ رہبر کمیٹی کی سربراہی کنوینر اکرم خان درانی نے کی۔ حکومتی وفد میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین اسد عمر شامل تھے جبکہ رہبر کمیٹی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے فرحت اﷲ بابر، سیّد نیئر بخاری، قومی وطن پارٹی کے ہاشم بابر، نیشنل پارٹی کےطاہر بزنجو، اے این پی کے میاں افتخار حسین، مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر عباداﷲ، جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے شاہ اویس نورانی، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے شفیق پسروری، پختونخوا عوامی پارٹی کے عبدالصمد اچکزئی شامل تھے۔ادھر مسلم لیگ (ق) کے رہنما چودھری شجاعت اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں آزادی مارچ، ملکی سیاسی صورتحال سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔مولانا سے ملاقات سے قبل مختصر گفتگو کرتے ہوئے پرویز الٰہی نے کہا کہ ہم مفاہمت کے لیے آئے ہیں، مفاہمت سے ہی راستہ نکلے گا، وزیراعظم نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بلایا ہے، وزیراعظم کو تمام صورتحال سے آگاہ کریں گے۔
مذاکراتی کمیٹی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں