152

بھارت نے امریکی سینیٹر کو کشمیر کے دورے سے روک دیا

یہ دیکھنے کے لئے کشمیر کا دورہ کرنا چاہتا تھا وہاں کیا ہو رہا ہے ، ہندوستانی حکومت کی جانب سے اس کی منظوری نہیں دی ، سینیٹر کرس وان ہولن
واشنگٹن (لاہورپوسٹ ) یموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکہ کے ایک سینیٹر نے دعوی کیا ہے کہ ہندوستانی حکام نے انھیں کشمیر جانے کی اجازت سے انکار کردیا جب وہ زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے سری نگر کا دورہ کرنے جا رہے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے کہا کہ وہ یہ دیکھنے کے لئے کشمیر کا دورہ کرنا چاہتے ہیں کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے ، لیکن ہندوستانی حکومت کی جانب سے اس کی منظوری نہیں دی گئی۔ امریکی سینیٹر ہولن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہندوستانی حکومت نے انہیں بتایا کہ یہ مناسب وقت نہیں ہے کہ وہ کشمیر کا دورہ کریں۔اپنے دورے کے مقصد پر ، وان ہولن نے بتایا کہ وہ کشمیر میں زمین کی صورتحال دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہولن نے الزام لگایا کہ ہندوستان کی حکومت یہ نہیں دکھانا چاہتی کہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے ۔”میرا ذاتی نظریہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس چھپانے کے لئے کچھ نہیں ہے تو ، ریاست میں آنے والوں کو جانے کی اجازت دے کر خوفزدہ ہونے کی کوئی بات نہیں ہے ۔واشنگٹن پوسٹ کے ذریعہ ان کا یہ بھی حوالہ دیا گیا کہ “دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوری ریاستوں کی حیثیت سے ، ہندوستان اور امریکہ مشترکہ اقدار کے بارے میں بہت زیادہ بات کرتے ہیں اور یہی وقت تھا جہاں اس کی ضرورت تھی”۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی مقبوضہ وادی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔جمعہ کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اقوام متحدہ کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 60 روز گزر گئے ہیں مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو بنیادی ضرورتوں سے محروم کردیا گیا ہے مقبوضہ وادی میں 80لاکھ لوگ قید ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت مذاکرات کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں