اسلام آباد: (لاہور پوسٹ) سینیٹ اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر بل پیش کرنے کی تحریک مسترد کر دی گئی ہے۔

حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے بل کی بھرپور مخالفت کی۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی)، نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ)، جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے بل کی حمایت کی۔

بل کی حمایت میں 16 جبکہ مخالفت میں 29 ووٹ آئے جس کے بعد اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں میں اضافے کے بل کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا۔

 سینیٹ اجلاس میں اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر فیصل جاوید نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک معاشی حالات ٹھیک نہیں ہوتے تب تک تنخواہ میں اضافہ نہیں ہو سکتا، ابھی تک جتنی تنخواہ مل رہی ہے اسی میں گزارہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے حکمرانوں نے ٹیکس کا پیسہ اپنی عیاشیوں پر خرچ کیا۔ ہمارے موجودہ وزیراعظم نے اپنی تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا بلکہ ان کے آفس اخراجات میں بھی ریکارڈ کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک محنت کش اور کسان کی آمدنی نہیں بڑھ جاتی، تب تک اپنی تنخواہ کو بالکل نہیں بڑھانا چاہیے۔

Leave a Reply