نوازشریف کے خلاف تینوں ریفرنسزیکجا کرنے کی درخواست مستردفردجرم عائد

image

احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت، سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تینوں ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست مسترد کر دی، اب لندن فلیٹس، عزیزیہ ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز پر الگ الگ کارروائی چلے گی۔ احتساب عدالت نے نواز شریف پر باضابطہ فرد جرم بھی عائد کر دی۔ نوازشریف نے صحت جرم سے انکار کر دیا اور کہا کارروائی سیاسی بنیادوں پر کی گئی، بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، ٹرائل میں اپنا دفاع کروں گا۔

سماعت کے دوران نوازشریف اور جج کے درمیان مکالمہ بھی ہوا، نواز شریف نے جج سے مخاطب ہو کر کہا مانیٹرنگ جج کی تعیناتی سے بنیادی حقوق سلب ہو رہے ہیں، 6 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔ اس پر جج نے کہا چاروں ریفرنسز کی سماعت ایک ساتھ شروع کریں تو سماعت مکمل کرلیں گے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف 20 منٹ تک روسٹرم پر کھڑے رہے۔ نوازشریف نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں نمائندہ مقرر کرنے کی اجازت دی جائے۔ نوازشریف کی جانب سے باقاعدہ درخواست ملنے کے بعد عدالت نے نواز شریف کو مستقل نمائندہ مقرر کرنے کی اجازت دے دی۔ ظافر خان نیب ریفرنسز میں نواز شریف کے مستقل نمائندے ہونگے جو نواز شریف کی عدم حاضری پر عدالت میں پیش ہونگے۔ عدالت نے اگلی سماعت پر استغاثہ کے گواہان طلب کرتے ہوئے ریفرنسز کی سماعت 15 نومبر تک ملتوی کر دی۔

قبل ازیں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر احتساب عدالت میں پیش ہوئے، مریم اورنگزیب، پرویز رشید، طلال چوہدری، دانیال عزیز سمیت دیگر لیگی رہنما بھی ہمراہ تھے۔ احتساب عدالت کے باہر لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد نے قیادت کے حق میں نعرے بازی کی۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔

واضح رہے گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت نے وکیل نواز شریف اور نیب پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تینوں ریفرنسز یکجا کرنے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

خبریں