سکیورٹی اداروں میں کوآرڈی نیشن کا فقدان تھا، رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

image

 پولیس نےفیض آباد دھرنے سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔ رپورٹ میں موقف اختیار کیا گیا کہ معاملہ حساس تھا اس لیے زیادہ وقت مذاکرات پر لگا، 20 روز تعیناتی کے بعد اہلکار تھک چکے تھے۔

پولیس کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنا آپریشن میں صوبوں کی پولیس، ایف سی اور رینجرز کے لگ بھگ ساڑھے 5 ہزار پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔ دھرنے کے مقام پر پولیس 20 دنوں سے تعینات تھی جس کی وجہ سے تھک چکی تھی۔ دھرنا کےمقام پر مختلف میڈیا، سوشل میڈیا اور رئیل ٹائم انفارمیشن دیتا رہا، آپریشن کے دوران اوپن جگہ کی وجہ سے آنسوگیس کے شیل بھی اثرانداز نہ ہوسکے، آپریشن میں پولیس کے 173 اہلکار زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سکیورٹی اداروں میں کوآرڈی نیشن کا فقدان تھا، رپورٹ میں بتایا گیا احتجاجی مظاہرین ڈنڈوں، پتھروں اور دیگرآلات اٹھائے تھے اور آپریشن کے دوران راولپنڈی سے تازہ دم مظاہرین بھی دھرنے میں شامل ہوتے رہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پریڈ گراونڈ منتقلی کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا، پولیس کے مذہبی جذبات کو بھی ابھارا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آپریشن شروع ہوتے ہی فیض آباد کا 80 فیصد علاقہ کلیئر کر الیا گیا تھا۔

خبریں