بھارت سے سیریز کے متعلق فیصلہ کا اختیار نجم سیٹھی کو دے دیا گیا

image

پی سی بی گورننگ بورڈ کا47واں اجلاس بدھ کی صبح11بجے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہوا، جس میں بھارت سے سیریز کے متعلق فیصلہ کا اختیار نجم سیٹھی کو دے دیا گیا و دیگر امور میں رسمی کارروائی مکمل کرنے کے ساتھ شکیل شیخ کو نوازنے کیلیے تیاریاں بھی مکمل کرلی گئی ہیں،آئین میں ترمیم کا فیصلہ کیا جا چکا،گورننگ بورڈ ربڑ اسٹمپ کا کردار ادا کرتے ہوئے شکیل شیخ کے تیسری بار اسلام آباد ریجن کا صدر بنانے کیلیے راہ ہموار۔

ذرائع کے مطابق گورننگ بورڈ ارکان چائے پانی اور پی سی بی کی میزبانی کا مزا اٹھانے کے ساتھ طاقتور لابی کے حامل شکیل شیخ کو پی سی بی میں ان رکھنے کی مجوزہ ترمیم میں حائل ہونے کا حوصلہ نہیں رکھتے،اسی کے ساتھ پی سی بی کے ایوانوں میں ان شکیل شیخ کی اجارہ داری کیخلاف شدید تحفظات کا بھی اظہار کیا گیا ہے، فیصلہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول کے تحت ہونے کا قوی امکان ہے۔یاد رہے کہ شکیل شیخ نے پی سی بی میں اپنی کرسی پکی رکھنے کیلیے ہر ممکن حربہ اختیار کیا ہے۔انھوں نے ایک سال قبل یہ قانون متعارف کرانے کے بعد منظور بھی کرایا کہ قائد اعظم ٹرافی میں سرفہرست 4 ٹیمیں گورننگ بورڈ کی رکن بن سکیں گی۔

اس کا مقصد یہ تھا کہ کراچی، راولپنڈی اور پشاور کے ساتھ ٹاپ فور میں شامل ان کا ریجن اسلام آباد بھی گورننگ بورڈ کا حصہ بن جائے، اس کی مدت پوری ہوئی تو انھوں نے روٹیشن پالیسی کیلیے پورا زور لگا دیا جس میں تمام ریجنز کو کارکردگی سے قطع نظر باری باری گورننگ بورڈ کا حصہ بننے کا موقع دیا گیا۔

اس ترمیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام آباد ریجن ایک بار پھر گورننگ بورڈ کا رکن بن گیا اور شکیل شیخ پی سی بی کے ساتھ جڑے رہے،انھوں نے کرکٹ کمیٹی کی سربراہی بھی سنبھال لی،اب ایک بار پھر آئین میں شکیل شیخ کیلیے موزوں ترمیم کی تیاری مکمل ہے۔

یاد رہے کہ بطور صدر اسلام آباد ریجن ان کے عہدے کی مدت 25نومبر کو ختم ہونے والی ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ کیلیے چیئرمین پی سی بی کا مشیر انھیں پہلے ہی مقرر کیا جا چکا۔بورڈ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیاکہ ایجنڈے کے مطابق گورننگ بورڈ اجلاس میں چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی اپنی رپورٹ پیش کریں گے، آئندہ سال پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے تجاویز پر بات چیت ہوگی۔

اینٹی کرپشن اقدامات پر غور کرتے ہوئے اراکین پی ایس ایل کو فکسنگ کی آلودگی سے پاک رکھنے کیلیے مشورے دیںگے، سیریز کھیلنے سے انکار کرنے والے بھارت کیخلاف قانونی چارہ جوئی کے حوالے سے پیش رفت سے بھی اراکین بورڈ کو آگاہی دی جائے گی۔

واضح رہے کہ سابق چیئرمین پی سی بی شہریار خان اور کئی سابق کرکٹرز کا خیال ہے کہ معاہدہ حکومتی اجازت سے مشروط ہونے کی وجہ سے بی سی سی آئی سے ہرجانہ وصول ہونے کا کوئی امکان نہیں،اس کے باوجود قانونی چارہ جوئی کیلیے ایک ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔

خبریں