پی ایچ ایف کی جانب سے ٹیم مینجمنٹ بدلنے پر غور شروع کر دیاگیا

image

 قومی کھیل ہاکی بحرانوں سے نہ نکل سکا۔ پے در پے ہار سے زخم خوردہ ٹیم اور فیڈریشن مایوسی کا شکار ہو گئی۔ رواں سال تو جو ہوا سو ہوا مگر 2018ء قومی ہاکی کیلئے اہم ترین سال ہو گا کیونکہ تمام بڑے ایونٹس جیسے ورلڈ کپ، کامن ویلتھ، ایشیئن چیمپئنز ٹرافی اور اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ آئندہ سال ہی ہونے ہیں۔

ہیڈ کوچ فرحت کی زیرنگرانی ایشیاء کپ اور دورہ آسٹریلیا کے دس میچز میں سے صرف 2 میں ہی جیت ٹیم کا مقدر بنی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہاکی فیڈریشن ٹیم مینجمنٹ میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ شہباز سینئر تو پہلے ہی غیرملکی کوچ لانے کے حق میں تھے مگر اب سابق اولمپیئن دانش کلیم کے مطابق ایسی بری کارکردگی کے بعد فیڈریشن میں تبدیلی ناگزیر ہے۔

دوسری جانب، پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات جو رواں سال ہونے ہیں، ابھی تک فیڈریشن نے ان کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا۔ ان انتخابات سے اندازہ ہو گا کہ حکومت موجودہ فیڈریشن پر کتنا بھروسہ کرتی ہے۔

خبریں