اتحاد، یوٹرن، سیاست سے دستبرداری اور بھر سے واپسی آخر ماجرہ ہے کیا؟

image

متحدہ پاکستان کے راہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے والدہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ والدہ کے حکم کے آگے سر جھکاتے ہوئے سیاست سے دستبرداری کا فیصلہ واپس لے رہا ہوں۔ بڑے دکھ کے ساتھ دل کھول کر کارکنوں کے سامنے اپنی بات رکھی تھی، ہم سنجیدہ سیاست کر رہے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں، کوئی ڈرامہ نہیں رچانا چاہتے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی سے باہر رہ کر بھی عوام کی خدمت کر سکتا ہوں اور متحدہ کا مشیر بن کر کام کرنے کیلئے تیار ہوں۔ پرسوں رات پی ایس پی سے ساری رات مذاکرات ہوئے جس میں پی ایس پی والوں نے صرف اپنی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ عزت کی قیمت پر پارٹی سربراہی قبول نہیں کر سکتا۔ پاکستان بنانے والوں اور انکی اولادوں کی قربانیوں کا شمار نہ ہو تو تکلیف ہوتی ہے۔ پی ایس پی والے متحدہ پاکستان کو دفن کرنے کی بات کریں توغم نہیں لیکن ساتھیوں کے ہاتھوں اپنی عزت دفن ہونا گوارا نہیں کر سکتا۔
ارشد وہرا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ بتا کر جاتے تو خود پی ایس پی کے دفتر چھوڑ کر آتا، افسوس ان کی وفاداری بدلنے پر نہیں بتائے بغیر جانے کا ہے۔ میں نے پارٹی نہیں سیاست چھوڑی ہے۔
اس موقع پر فاروق ستار کی والدہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار کے لیے ہمیشہ دعا کرتی رہوں گی، میرے بیٹے نے رات دن کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فاروق ستار سے کہا ہے کہ جیسے خدمت کر رہے ہو کرتے رہو۔ انہوں نے مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی سمیت سب سے فاروق ستار کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔

اس سے قبل پریس کانفرس کے دوران ڈاکٹر فاروق ستار نے پارٹی میں پھوٹ کی وجہ سے سیاست سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ کل کی پریس کانفرنس میں مہاجروں کی تذلیل کی گئی، جو مہاجروں کو تسلیم نہیں کرتے ان سے انضمام کیسے ہو سکتا ہے۔ ایم کیو ایم مہاجروں کی سیاست بھی کرے گی اور مظلوموں کی سیاست بھی، شہدا کے لہو سے بے وفائی نہیں کر سکتے۔

خبریں