پاکستان میں موجودہ سیاسی تحریک کی ذمہ دار پاکستانی عوام یااسٹبلشمنٹ

کئی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ آخر ہم کب تک دوسروں کے سہارے چلتے رہیں گے، کب تک ہم پر الزامات لگتے رہیں گے ، کبھی ہم پر طالبائزیشن کے الزامات لگتے ہیں، کبھی بے ہنگم، ہجوم کے جن کی اپنی کوئی سوچ نہیں۔

اس وقت پوری دنیا میں انقلاب کی باتیں ہورہی ہیں مختلف اسلامی ممالک میں تحریکیں سرگرم ہیں خاص طور پہ کرنل قذافی کی موت کے بعد باقی اسلامی ممالک کو بھی خطرات نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور پاکستان اسلامی دنیا کا اہم ترین اور پہلا ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے ان اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔

پاکستانی عوام جنہوں نے کبھی نام نہاد جمہوریت کو سپورٹ کیا اور کبھی ان سے تنگ آکر آمر یت سے امیدیں وابستہ کیں مگر پھر مایوس ہو کر انہیں سیاسی پارٹیوں کی طرف لوٹنا پڑا اور چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی کرپٹ سیاسی پارٹیوں کو ووٹ دینا پڑے اور کچھ کو مجبوراً بائیکاٹ کر نا پڑا کیونکہ اس کے سوا ان کے پاس کوئی آپشن نہیں تھا۔ پاکستانی سیاست ہمیشہ تھانہ ، کچہری اور برادری ازم کے تابع رہی ہے۔ ایسے ناگزیر حالات میں پاکستان کو عوام نے بھی انقلاب کا نعرہ لگایا لیکن قانونی، اخلاقی اور جمہوری انداز میں۔ اس مشکل وقت میں پاکستان کی پڑھی لکھی عوام خصوصاً مڈل کلاس اور نوجوان طبقہ آگے بڑھا اور پکا تہیہ کر لیا کہ اس دفعہ اقتدار کی باری والہ فارمولہ نہیں چلے گا بلکہ نئی اور شفاف قیادت کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے گا جسکے لیے انہوں نے عمران خان کی تحریک انصاف کا انتخاب کیااور لاہور کے تاریخی جلسے میں یہ ثابت کر دیا کہ پاکستانی عوام اب خواب غفلت سے جاگ اُٹھی ہے۔

ہونا تو یہ چائیے تھا کہ عوام کے اس اقدام کو خراج تحسین پیش کیا جاتا انہیں جمہوری روایات میں مثبت تبدیلی پر مبارک باد دی جاتی مگر ماضی کی طرح پھر وہی ہوا کہ وہ تما اینٹی اسٹیٹ عناصر اکٹھے ہوگئے اور حسب روایت اسٹبلشمنٹ خصوصاً ائی ایس آئی کو اس سیاسی محرمات کا موردِ الزام ٹھہرا دیا اور ہماری پاک فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی وار آن ٹیررزم کی تمام قربانیوں کو نہ صرف فر ا موش کر دیا بلکہ الٹا بدنام کر دیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ آج امریکہ، انڈیا اور افغانستان وغیرہ بھی تو یہی الزام لگا رہے ہیں ہماری فوج اور آئی ایس آئی پر تو اہم اور ہماری سیاسی پارٹیاں انکے عزائم کو پورا نہیں کر رہی ہیں؟ پوری دنیا پر عیاں ہے کہ جب سے جنرل اشفاق پر ویز کیانی نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا اس وقت سے لیکر اب تک نہ صرف وہ سیاست سے دور رہے بلکہ بارہا عہد دہرایا کہ فوج یا ایجنسیاں حکومت کے ماتحت ہیں اور حکومت کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کریں گی۔ اگر فوج یا اسٹبلشمنٹ نے سیاسی مداخلت کرنا ہوتی تو ریکارڈ گواہ ہے کہ اس حکومت نے متعدد ایسے مواقع فراہم کیے جن کو بنیاد بنا کر مارشل لاء لگایا جاسکتا تھا مگر پہلی دفعہ جمہوریت پسند اسٹبلشمنٹ کو بھی منفی عناصر برداشت نہیں کر پا رہے اور غیر ملکی اشاروں پر انہیں بد نام کر رہے ہیں۔

ان الزامات سے یہاں تک فوج بد نام ہو رہی ہے وہاں ہماری جمہوریت پسند عوام کی بھی تو ہین ہو رہی ہے۔ اگر ہماری سیاسی

Shortlink:

Leave a Response

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>